ناڈائن گورڈیمر

ناڈائن گورڈیمر ٢٠ نومبر ١٩٢٣ء کو جوہانسبرگ کے مضافاتی قصبے ایسٹ رینڈ مائننگ میں تولد ہوئیں۔ ان کے والدین یہودی تارکین وطن میں سے تھے جو جنوبی افریقہ میں آ کر آباد ہو گئے تھے۔ ان کے والد آئیسوڈ درے ایک گھڑی ساز تھے جن کا آبائی وطن لٹویہ تھا جبکہ والدہ نان گورڈیمر لندن سے تھیں۔ ناڈائن گورڈیمر نے کیتھولک کانونٹ سکول میں تعلیم حاصل کی ، تاہم ان کی والدہ  انھیں زیادہ تر گھر میں مقید رکھتی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ اس بچی کا دل کمزور ہے۔ گھر میں تنہائی کاٹنے کے لیے ناڈائن گورڈیمر نے کتابوں میں پناہ ڈھونڈی اور چھوٹی عمر ہی میں بچوں کی کہانیاں لکھنے کی طرف مائل ہو گئیں۔ ١٩٣٨ء میں سولہ سال کی عمر میں بڑوں کے لیے کہانیاں تخلیق کرنا شروع کیں۔ ان کی کہانیاں جنوبی افریقہ کے مقامی ادبی جرائد میں شائع ہوئیں جنھیں انھوں نے فیس ٹو فیس (Face to Face) کے  عنوان سے ١٩٤٩ء میں کتابی شکل میں چھپوایا۔ ١٩٥١ء میں ان کی ایک کہانی ’’نیویارکر‘‘ نے اشاعت کے لیے قبول کی۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا اور دیگر بین الاقوامی شہرت کے حامل جرائد بھی ان کی تخلیقات شائع کرنے لگے۔ ان کا اولین ناول دی لائنگ ڈیز(The lying days) ١٩٥٣ء میں منظر عام پر آیا جسے عالمی ادبی حلقوں میں بے حد سراہا گیا۔ انھوں نے ١٩٥٤ء میں رین ہولڈ گیسرر سے شادی کی جو ایک معزز و ممتاز آرٹ ڈیلر تھے۔ ان کی اپنی ذاتی آرٹ گیلری تھی۔ علاوہ ازیں جنوبی افریقہ میں آرٹ کے فروغ کے لیے قومی سطح پر بھی ان کی خدمات مستعار لی گئیں۔ ان کی قابل رشک ازدواجی زندگی کا اختتام ٢٠٠١ء میں ہوا جب مسٹر رین ہولڈ نے نمونیا میں مبتلا ہو کر داعی اجل کو لبیک کہا۔ یہ ان کی تیسری جبکہ ناڈائن گورڈیمر کی دوسری شادی تھی۔ ان کا بیٹا ہوگیو ١٩٥٥ء میں پیدا ہوا تھا۔ آج کل وہ نیویارک میں فلم سازی میں مصروف ہے۔ ناڈائن گورڈیمر نے اپنے بیٹے کی دو ’’ڈاکومنٹری‘‘ فلموں میں اعانت بھی کی ہے۔
ناڈائن گورڈی کی تحریروں سے جنوبی افریقہ کی سرزمین سے بدرجہ اتم محبت اور نسل پرستی کے خلاف بھرپور احتجاج جھلکتا ہے۔ وہ اس معاملے پر سیاست میں بھی سرگرم رہیں۔ اور ١٩٦٢ء میں نیلسن منڈیلا کے دفاعی وکلاء کے ساتھ مل کر کام کیا۔ جب ١٩٩٠ء میں منڈیلا رہا ہوئے تو جن شخصیات سے انھوں نے سب سے پہلے ملاقات کی ان میں ناڈائن گورڈیمر بھی شامل تھیں۔ ان کی ادبی خدمات کے صلے میں انھیں ١٩٩١ء میں ادب کا نوبل انعام عطا کیا گیا۔ وہ ابھی حیات ہیں اور جوہانسبرگ میں رہتی ہیں۔